It is currently Sun Jul 22, 2018 9:56 am

All times are UTC + 5 hours




 Page 1 of 1 [ 6 posts ] 
Author Message
 Post subject: شام کی طويل رات
PostPosted: Tue Mar 20, 2018 8:39 pm 
Senior Member

Joined: Fri May 02, 2008 11:11 pm
Posts: 330

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

شامی حکومت کی بربريت جاری

ستم ظريفی ديکھيں کہ ايک جانب تو کچھ راۓ دہندگان اس بنياد پر امريکہ کے خلاف نفرت کو درست قرار ديتے ہیں کہ امريکہ ايک طاغوتی قوت ہے جو دنيا بھر ميں اپنے سياسی حل مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسری جانب وہی راۓ دہندگان ديگر جاری عالمی تنازعات کے حوالے دے کر امريکہ پر يہ الزام لگاتے ہيں ہے کہ ہم کوئ کاروائ نا کر کے براہ راست ان انسانی زيادتيوں کے ذمہ دار ہیں۔

فروری 24 اور 28 کے دوران شمال مشرقی شام کے ہمائم ائر فيلڈ سے روسی جنگی طيارے نے روزانہ 20 کے قريب پروازيں کيں اور مشرقی غوطہ اور دمشق پر فضائ بمباری کی مہم جاری رکھی۔

امريکہ مشرقی غوطہ کے مکينوں کے خلاف روس اور ايران کے تعاون سے اسد حکومت کی جاری فوجی بربريت کی شديد مذمت کرتا ہے۔ مشرقی گھوٹا ميں عام شہريوں اور طبی سہوليات کی فراہمی سے متعلق عمارات پر اسد حکومت کے حاميوں کی خونی مہم جوئ فوری طور پر بند ہونی چاہیے۔

اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 2401 جس کے تحت پورے شام ميں 30 دنوں کے ليے ہر قسم کی جارحيت کو روکنے کا مطالبہ کيا گيا تھا، روس کی جانب سے پہلے بار بار تاخيری حربے استعمال کيے گۓ اور اب اس قرارداد کی شقوں کو سرے سے ہی مسترد کر ديا گيا ہے اور انسداد دہشت گردی کے جھوٹے دعوے کی آڑ ميں بے گناہ شہريوں کو ہلاک کيا جا رہا ہے۔ سال 2016 ميں ايليپو ميں ہزاروں شہريوں کو ہلاک کرنے کے ليے روس اور شامی حکومت کی جانب سے جھوٹ اور بلاتفريق جارحيت کے استعمال کے يہی ہتھکنڈے استعمال کيے گۓ تھے۔

اسد حکومت کی جانب سے کيميائ ہتھياروں کا مسلسل استعمال مہذب دنيا کے ليے ہرگز قابل قبول نہيں ہے۔ اسد حکومت اور ماسکو اور تہران ميں موجود اس کے حمايتيوں پر لازم ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد 2401 کی پابندی کريں، مشرقی غوطہ ميں تشدد کو روکيں اور چار لاکھ سے زائد معصوم شہريوں تک انسانی بنيادوں پر امداد کی فوری فراہمی کو يقينی بنائيں۔

اس ميں کوئ شک نہيں کہ شام کے سرحدوں سے دور عالمی برادری کو بے انتہا تشويش اور تحفظات ہيں اور امريکہ بھی اس ميں شامل ہے۔ تاہم مشرق وسطی کے بے شمار ممالک کے اسٹريجک اتحادی اور شراکت دار کی حيثيت سے مقامی حکومتوں اور متعلقہ حکام کی مرضی و منشاء، مساوی سياسی ذمہ داری کے ادراک اور کاوشوں کے بغير امريکہ فيصلے اور حل زبردستی مسلط کرنے کی پوزيشن ميں نہيں ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

http://www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

https://www.instagram.com/doturdu/

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/



Offline
 Profile  
 
 Post subject: Re: شام کی طويل رات
PostPosted: Mon Mar 26, 2018 7:09 pm 
Senior Member

Joined: Fri May 02, 2008 11:11 pm
Posts: 330

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

اسد حکومت کے ظالمانہ حربوں کا نشانہ بننے والی ان معصوم جانوں کی خاموش چيخيں عرش ہلا رہی ہيں

https://www.youtube.com/watch?v=wfVB7riRhus

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

http://www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

https://www.instagram.com/doturdu/

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/



Offline
 Profile  
 
 Post subject: Re: شام کی طويل رات
PostPosted: Tue Apr 10, 2018 7:02 pm 
Senior Member

Joined: Fri May 02, 2008 11:11 pm
Posts: 330

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

شامی شہر دوما پر کیمیائی حملہ

https://s14.postimg.org/n51y62bgh/Da_W9 ... AIBApo.jpg

ہم 7 اپریل کو شام کے شہر دوما میں ایک اور کیمیائی حملے سے متعلق پریشان کن اطلاعات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ اس مرتبہ ایسے حملے میں ایک ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ متعدد رابطوں اور وہاں موجود طبی عملے کے افراد سے ملنے والی اطلاعات سے نشاندہی ہوتی ہے کہ اس حملے میں ممکنہ طور پر بڑا جانی نقصان ہوا اور پناہ گاہوں میں موجود خاندان بھی اس کا نشانہ بنے۔ اگر ایسی اطلاعات درست ہیں تو یہ ایک ہولناک صورتحال ہے جو عالمی برادری کی جانب سے فوری ردعمل کا تقاضا کرتی ہے۔

امریکہ شام سمیت ہر جگہ کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے والوں کے احتساب کے لیے ہرممکن کوششیں بروئے کار لا رہا ہے۔ شامی حکومت کی جانب سے اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں سے حملوں کے واقعات شبے سے بالاتر ہیں اور درحقیقت قریباً ایک سال قبل 4 اپریل 2017 کو بھی اسد کی افواج نے خان شیخون میں سرن گیس سے حملہ کیا تھا جس میں قریباً 100 شامی ہلاک ہوئے۔

شامی حکومت اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں کا احتساب اور ایسے مزید حملوں کی فوری روک تھام ہونی چاہیے۔ روس پر بھی ایسے وحشیانہ حملوں کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو اسد حکومت کی مسلسل حمایت کر رہا ہے۔ ان حملوں میں بے شمار شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور کیمیائی ہتھیاروں سے شام کے انتہائی کمزور لوگوں کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ روس نے اپنے اتحادی شام کو تحفظ دے کر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکنے کے سلسلے میں ضمانتی کے طور پر اقوام متحدہ سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ روس کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق کنونشن اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2118 کے حوالے سے دھوکہ دہی کا مرتکب ہوا ہے۔ روس کی جانب سے اسد حکومت کے تحفظ اور شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکنے میں ناکامی سے مجموعی بحران کے حل اور کیمیائی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ترجیحات بارے اس کے عہد پر سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔

امریکہ روس سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ شامی حکومت کی قطعی حمایت فوری بند کرے اور مزید وحشیانہ کیمیائی حملوں کی روک تھام کے لیے عالمی برادری سے مل کر کام کرے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

http://www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

https://www.instagram.com/doturdu/

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/



Offline
 Profile  
 
 Post subject: Re: شام کی طويل رات
PostPosted: Tue Apr 17, 2018 10:55 pm 
Senior Member

Joined: Fri May 02, 2008 11:11 pm
Posts: 330

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


Image

شام میں مبینہ کیمیائی حملے میں بچ جانے والوں کی اپنی زندگی کے ہولناک ترین لمحات کی شہادتیں

https://alshahidwitness.com/syria-chemi ... -shutting/

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

http://www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

https://www.instagram.com/doturdu/

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/


Offline
 Profile  
 
 Post subject: Re: شام کی طويل رات
PostPosted: Tue Apr 24, 2018 8:36 pm 
Senior Member

Joined: Fri May 02, 2008 11:11 pm
Posts: 330

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


Image

" اس مرتبہ ہمارے اتحادیوں اور ہم نے کڑی کارروائی کی ہے۔ ہم نے مشترکہ طور پر اسد اور اس کے قاتل معاونین کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ انہیں کیمیائی ہتھیاروں سے مزید حملے نہیں کرنے چاہئیں جن کے لیے وہ جوابدہ ہوں گے"،

امریکی وزیردفاع جیمز

شام کے معاملے پر امریکی وزیردفاع جیمز این میٹس کا بیان

جیسا کہ دنیا جانتی ہے شامی عوام نے اسد حکومت کی جانب سے ظلم و زیادتی کے طویل عرصہ میں بری طرح مصائب اٹھائے ہیں۔

سات اپریل کو اسد حکومت نے مہذب لوگوں کے اصولوں کی ایک مرتبہ پھر خلاف ورزی کا فیصلہ کیا اور خواتین، بچوں اور دیگر معصوم لوگوں کو کیمیائی ہتھیاروں سے قتل کرنے کے لیے عالمی قانون سے سنگدلانہ بے اعتنائی برتی۔ ہم اور ہمارے اتحادی ایسے مظالم کو ناقابل معافی سمجھتے ہیں۔

ہمارے کمانڈرانچیف اور صدر کےپاس سمندرپار اہم امریکی قومی مفادات کے دفاع کے لیے آئین کے آرٹیکل 2 کے تحت فوجی طاقت استعمال کرنے کا اختیار ہے۔ شام میں بدترین شکل اختیار کرتی مصیبت کا رخ پھیرنے اور خاص طور پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال اور پھیلاؤ روکنے میں امریکہ کا اہم قومی مفاد ہے۔

گزشتہ برس عام شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں سے حملے کے ردعمل میں اور شامی حکومت کو کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکنے کا پیغام دینے کے لیے ہم نے اس فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جہاں سے یہ ہتھیار استعمال کیے گئے تھے۔

صدر ٹرمپ نے امریکی فوج کو ہمارے اتحادیوں کے ساتھ مل کر شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں پر تحقیق، تیاری اور ان کی پیداوار کی اہلیتیں تباہ کرنے کی کارروائیوں کا حکم جاری کیا۔

فرانس، برطانیہ اور امریکہ نے شامی کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات پر حملے کی فیصلہ کن کارروائی کی۔

یہ واضح ہے کہ اسد حکومت نے گزشتہ برس پیغام نہیں سمجھا تھا۔ اس مرتبہ ہمارے اتحادیوں اور ہم نے کڑی کارروائی کی ہے۔ ہم نے مشترکہ طور پر اسد اور اس کے قاتل معاونین کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ انہیں کیمیائی ہتھیاروں سے مزید حملے نہیں کرنے چاہئیں جن کے لیے وہ جوابدہ ہوں گے۔

داعش کو شکست دینے کے اتحاد میں شامل 70 ممالک شام میں داعش کی شکست کے حوالے سے بدستور پرعزم ہیں۔ آج رات کیا جانے والا حملہ کسی ہدف پر، کسی بھی طرح کے حالات میں اور عالمی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکنے کے عالمی عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ یہ حملے شامی حکومت پر کیے گئے۔ ان حملوں میں ہم نے شہریوں اور غیرملکیوں کی ہلاکتوں سے بچنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ تمام مہذب ممالک متحدہ کی معاونت سے جنیوا امن عمل کی حمایت کر کے شامی خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے فوری طور پر متحد ہو جائیں۔

ایسے کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع سے متعلق کنونشن کی مطابقت سے ہم ذمہ دار ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ اسد حکومت کی مذمت کریں اور کیمیائی ہتھیاروں کا دوبارہ استعمال روکنے کے لیے ہمارے مضبوط عزم کا حصہ بنیں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

http://www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

https://www.instagram.com/doturdu/

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/



Offline
 Profile  
 
 Post subject: Re: شام کی طويل رات
PostPosted: Tue May 08, 2018 9:38 pm 
Senior Member

Joined: Fri May 02, 2008 11:11 pm
Posts: 330

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

شام ميں عام شہريوں کو کيميائ گيس کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے ليے امريکہ کی جانب سے حاليہ فضائ بمباری کے بعد بعض راۓ دہندگان يہ غلط تاثر دے رہے ہيں کہ امريکی حکومت خطے ميں تشدد اور خون ريزی کی خواہش مند ہے۔

اس الزام کا حقيقت سے کوئ تعلق نہيں ہے۔

ياد رہے کہ شام ميں خانہ جنگی کے بعد انسانی بنيادوں پر جس ملک نے سب سے زيادہ امداد اور وسائل فراہم کیے ہيں، وہ امريکہ ہی ہے۔ شام ميں تشدد کے واقعات کے نقطہ آغاز سے اب تک بے گھر ہونے والے شہريوں اور ان کی بحالی کے ليے امريکہ کی جانب سے قريب 7۔7 بلين ڈالرز کی خطير امداد فراہم کی گئ ہے۔

بعض راۓ دہندگان کی جانب سے تشہير کیے جانے والے غلط تاثر کے برعکس، امريکی حکومت شام ميں متاثرہ عام شہريوں تک ضروريات زندگی کی بنيادی اشياء فراہم کرنے ميں بدستور اپنا تعميری کردار ادا کررہی ہے۔

نہتے شہريوں کی حفاظت کو يقینی بنانے کے ليے شام کی حکومت کے خلاف ليے جانے والے عملی اقدامات کے ساتھ ساتھ امريکی حکومت شہری آبادی کے ليے ہنگامی بنيادوں پر ہر طرح کے وسائل بھی فراہم کر رہی ہے جن ميں کھانے پينے کا سامان، خيمے، پينے کا صاف پانی، فوری طبی سہوليات اور ديگر سازوسامان شامل ہے جن سے شام کے اندر متاثرہ 1۔13 ملين شہری مستفيد ہو رہے ہيں۔ اس کے علاوہ شام سے ہجرت کرنے والے قريب 6۔5 ملين شہری جو خطے کے مختلف علاقوں ميں پناہ ليے ہوۓ ہيں، ان کو بھی ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

امريکی صدر نے قومی سلامتی سے متعلق اپنی پاليسی وضع کرتے ہوۓ يہ واضح کيا تھا کہ امريکی حکومت يہ سمجھتی ہے کہ خانہ جنگی کے نتيجے ميں بے گھر ہونے والے پناہ گزينوں کو ان کے آبائ علاقوں کے قريب مدد فراہم کی جانی چاہيے يہاں تک کہ وہ حفاظت کے ساتھ واپس اپنے گھروں کو جاسکيں۔

خطے ميں قريب 6۔5 ملين شامی پناہ گزينوں تک ہر ممکن امداد کی فراہمی ہمارے اس عزم اور ارادے کو واضح کرتی ہے کہ ہم خطے ميں امن اور استحکام کی بحالی کے خواہ ہيں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

http://www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

https://www.instagram.com/doturdu/

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/



Offline
 Profile  
 
Display posts from previous:  Sort by  
 Page 1 of 1 [ 6 posts ] 

All times are UTC + 5 hours


Who is online

Users browsing this forum: No registered users and 0 guests


You cannot post new topics in this forum
You cannot reply to topics in this forum
You cannot edit your posts in this forum
You cannot delete your posts in this forum
You cannot post attachments in this forum

Jump to: